مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من قال: ليس على الصفا والمروة دعاء موقت باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ صفا ومروہ پر کوئی مخصوص دعا نہیں ہے
١٥١١١ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا ابن نمير عن (عبيد) (٢) اللَّه عن نافع عن ابن عمر أنه كان (إذا) (٣) صعد (٤) على الصفا استقبل البيت ثم كبر ثلاثًا، ثم ⦗٣٥٠⦘ قال: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، يرفع بها صوته ثم يدعو قليلًا ثم يدعو قليلًا ثم يفعل ذلك على المروة حتى يفعل ذلك سبع مرات، فيكون التكبير (إحدى) (٥) وعشرين (تكبيرة) (٦) فما يكاد (يفرغ) (٧) حتى (يشق) (٨) علينا ونحن شباب (٩).حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب صفا پر چڑھتے تو کعبہ کی طرف رخ کرتے پھر تین تکبیریں پڑھتے اور پھر یہ دعا پڑھتے : لاَ إِلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اپنی آواز بلند کردیتے اور پھر تھوڑی سے دعا فرماتے ، پھر مروہ پر یہی عمل کرتے، یہاں تک کہ سات چکروں میں سات دفعہ یہ عمل کرتے، پس اکیس تکبیریں بن جاتیں، پس ابھی وہ فراغت کے قریب بھی نہیں ہوتے تھے کہ ہم پہلے ہی تھک جاتے تھے۔ حالانکہ ہم جوان تھے۔