مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في المحرم يموت (أيغطى) رأسه؟ باب: محرم کا اگر انتقال ہو جائے تو کیا اس کے سر کو ڈھانپا جائے گا؟
حدیث نمبر: 15030
١٥٠٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم بن بشير عن أبي (بشر) (١) عن سعيد ابن جبير عن ابن عباس أن رجلًا كان مع رسول اللَّه ﷺ وهو محرم فوقصته (ناقته) (٢) فمات، فقال رسول اللَّه ﷺ: "اغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثوبيه ولا تخمروا رأسه ولا تمسوه بطيب (فإنه يبعث) (٣) يوم القيامة (ملبدًا) (٤) " (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک محرم شخص تھا، اونٹ نے اس کو گرا کر ھلاک کردیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو ، اور اس کو اسی احرام میں کفن دو ، اور اس کے سر کو مت ڈھانپنا، اور اس کو خوشبو بھی نہ لگانا بیشک اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن تلبیہ پڑھتے ہوئے اٹھائے گا۔
حواشی
(١) في [ب، ز]: (بشير).
(٢) في [ص]: (ناقة).
(٣) في [جـ، ص]: (فإن اللَّه يبعثه).
(٤) في [جـ، ص، ز]: (ملبدا)، وفي [أ، ب، ن]: (ملبيًا)، وكلاهما في الصحيح، انظر: صحيح مسلم (٢/ ٨٦٦) [١٢٠٦]، ولفظ: (ملبدًا) رواية هشيم.