١٤٦٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء (عن أبيه) (١) قال: كنت، (آخذًا) (٢) بلجام دابة عبد اللَّه بن (عمرو) (٣) فقال: كيف أنتم إذا ⦗٢٥١⦘ هدمتم هذا البيت فلم تدعوا حجرا (على حجر؟) (٤) قالوا: ونحن على الإسلام؟ قال: ونحن على الإسلام، (قلت) (٥): ثم ماذا؟ قال: ثم (يبنى) (٦) أحسن ما كان، فإذا رأيت مكة (قد) (٧) (بعجت) (٨) (كظائم) (٩) ورأيت البناء يعلو رؤوس الجبال فاعلم أن الأمر قد أظلك (١٠).حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے گھوڑے کی لگام کو پکڑا ہوا تھا، آپ نے فرمایا : اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم لوگ اس بیت اللہ کو منہدم کرو گے اور کوئی پتھر کسی پتھر پر نہیں چھوڑو گے ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ کیا اس وقت ہم اسلام پر ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : (ہاں) اس وقت ہم اسلام پر ہوں گے، میں نے عرض کیا کہ پھر ایسا کیوں ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : پھر اس کو اس سے اچھی تعمیر پر بنایا جائے گا، جب تم دیکھو کہ مکہ مکرمہ میں پانی کی چھوٹی نہریں نکل پڑی ہیں اور تم دیکھو کہ عمارتیں پہاڑوں سے بلند ہیں تو جان لینا کہ معاملہ تمہارے قریب آگیا ہے (قیامت قریب ہے) ۔