حدیث نمبر: 14665
١٤٦٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن مجاهد قال: لما هدم البيت، وجد فيه صخرة مكتوب فيها: أنا اللَّه ذو بكة صغته يوم صغت الشمس والقمر، حففته بسبعة أملاك (حلقًا) (١)، باركت لأهله في السمن والسمين، لا يزول حتى (يزول) (٢) الأخشبان: يعني الجبلين، وأول من يحلها أهلها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ جب بیت اللہ کو گرایا گیا تو ایک پتھر ملا جس پر یہ تحریر تھا : میں خدا ہوں مکہ شہر کا مالک، میں نے اس کو اس دن بنایا تھا جس دن میں نے چاند وسورج کو بنایا تھا، میں نے اس کو سات سیدھی املاک سے ڈھانپا ہے۔ میں نے ان کے رہنے والوں کے لیے گھی اور سالن میں برکت رکھی ہے، اور یہ نہیں زائل ہوگا یہاں تک کہ یہ دو پہاڑ زائل اور ختم ہوجائیں اور سب سے پہلے اس حرمت کا حلال سمجھنے والے اس کے رہائشی ہوں گے۔
حواشی
(١) في [ن]: (حتفًا)، وفي [ز]: (خنفاء)، وفي أخبار مكة للأزرقي ١/ ٧٩، وتفسير السمعاني ٤/ ١٥٠: (حنفاء).
(٢) في [أ، ن]: (تزول).