مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في مس الإبط أو نتفه فيه وضوء؟ باب: کیا بغل کو ہاتھ لگانے یا اس کے بال اکھیٹر نے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟
حدیث نمبر: 1462
١٤٦٢ - حدثنا أبو بكر قال حدثنا ابن علية عن عبيد اللَّه بن العيزار عن طلق ابن حبيب قال: رأى عمر بن الخطاب رجلًا (حك) (١) إبطه، أو مسه فقال له: قم فاغسل يدك، أو تطهر (٢).مولانا محمد اویس سرور
ایک مرتبہ حضرت عمر نے ایک آدمی کو دیکھا جو بغل میں خارش کر رہا تھا، آپ نے اس سے فرمایا اٹھو اور ہاتھ دھوؤ یا وضو کرو۔
حواشی
(١) في [خ]: (يحك).
(٢) منقطع؛ طلق لم يلق عمر، وتقدم [٥٧٠].