حدیث نمبر: 14584
١٤٥٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن (يحيى) (١) بن سعيد قال: كان (عمر بن) (٢) عبد العزيز (واقفًا) (٣) بعرفة، فقال: (يا) (٤) أيها الناس (قد) (٥) جئتم من القريب والبعيد، وإنكم وفد غير واحد، وإن السابق ليس الذي تسبق دابته ولا بعيره، وإن السابق من (غفر) (٦) اللَّه له ذنبه، فناداه رجل أين أصلي المغرب؟ قال: أين (أدركتك من واديك) (٧) هذا.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمر بن عبد العزیز عرفہ میں کھڑے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے اے لوگو ! تم لوگ قریب اور دور سے آئے ہو، بیشک تم لوگ ایک وفد (جماعت) میں نہیں ہو، تم میں پہلے جانے والا (سبقت لے جانے والا) وہ نہیں ہے جس کی سواری اور اونٹ نے اس کو آگے کردیا بلکہ سبقت لے جانے والا وہ ہے جس کے گناہ اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیئے، ایک شخص نے بلند آواز میں پوچھا کہ ہم مغرب کی نماز کہاں ادا کریں ؟ آپ نے فرمایا جس وادی میں تم مغرب کا وقت پالو وہیں ادا کرلو۔

حواشی
(١) في [ن]: (حيي).
(٢) سقط من: [ن].
(٣) في [أ]: (واقف).
(٤) سقط من: [أ، جـ، ص].
(٥) في [جـ، ص]: (إنكم).
(٦) في [ص]: (يغفر).
(٧) في [أ، ن]: (أدركت من واديك)، وفي [ص]: (وأدركك يهدي انيكم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14584
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14584، ترقيم محمد عوامة 14228)