حدیث نمبر: 14534
١٤٥٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا صفوان بن عيسى عن الحارث بن عبد الرحمن بن أبي (ذباب) (١) عن مجاهد عن عبد اللَّه بن (سخبرة) (٢) عن عبد اللَّه قال: (خرجت) (٣) مع رسول اللَّه ﷺ فما ترك التلبية حتى أتى (جمرة) (٤) (العقبة) (٥) إلا أن (يخلطها) (٦) بتكبير أو تهليل (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے سفر میں نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل تلبیہ پڑھتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرہ عقبہ پر تشریف لائے، پھر حضور تلبیہ کے ساتھ تکبیر یا تہلیل کو بھی ملا کر پڑھنے لگے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ص، ن]: (رباب).
(٢) في [أ، ب، ن]: (سحرة).
(٣) في [ن]: (حججت).
(٤) سقط من: [ن].
(٥) في [ص]: (القبخبة).
(٦) في [ص]: (يختلطها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14534
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ الحارث صدوق، أخرجه البخاري (١٦٨٣)، ومسلم (١٢٨٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14534، ترقيم محمد عوامة 14180)