مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في الصلاة بمني كم هي: ركعتان أم أربع؟ باب: منیٰ میں کتنی رکعات ادا کی جائیں گی، دو یا چار؟
١٤٥٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن عبد الرحمن بن يزيد قال: صلى عثمان بمنى أربع ركعات، فقال عبد اللَّه: (صليت) (١) مع النبي ﷺ (بمنى) (٢) ركعتين، ومع أبي بكر ركعتين، ومع عمر ⦗٢١٥⦘ ركعتين، ثم تفرقت بكم الطرق، و (لوددت) (٣) أن لي (من) (٤) أربع ركعات ركعتين متقبلتين (٥).حضرت عثمان منیٰ میں چار رکعتیں ادا کیں، حضرت عبد اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعتیں ادا کیں، اور حضرات شیخین کے ساتھ بھی دو رکعتیں ادا کیں، پھر لوگوں کے راستے الگ اور جدا ہوگئے تو میری خواہش تھی کہ میں دو کی بجائے چار رکعتیں ادا کروں، حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت معاویہ بن قرہ نے بیان کیا کہ حضرت عبد اللہ اس کے بعد چار رکعتیں ادا فرماتے تھے، آپ سے کہا گیا کہ آپ نے حضرت عثمان پر اعتراض کیا اور آپ خود چار رکعتیں پڑھتے ہیں ؟ حضرت عبد اللہ نے فرمایا : اختلاف (مخالفت) شر کا سبب بنتی ہے۔