حدیث نمبر: 14454
١٤٤٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد الملك بن أبي سليمان عن سعيد بن جبير أنه كان يكره أن يؤخذ من طيب الكعبة شيء يستشفى به، وكان إذا رأى الخادم يأخذ (منه) (١) (قفدها) (٢) (قفدة) (٣) لا يألو أن (يوجعها) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعید بن جبیر ناپسند کرتے تھے کہ خانہ کعبہ کی خوشبو شفاء کے لیے لی جائے، اور جب وہ اپنی خادمہ کو ایسا کرتے ہوئے دیکھتے تو اس کی گدی پر طمانچہ رسید کرتے اور اس کی پروا نہ کرتے کہ اس کو تکلیف ہوگی، عطا فرماتے ہیں کہ ہم میں سے اگر کوئی شفاء حاصل کرنا چاہتا تو اپنے پاس سے خوشبو لاتا اور اس کو حجر اسود پر لگاتا پھر وہاں سے خود کو لگاتا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ن]: (منها).
(٢) في [ن]: (فقدها)، وفي [ب، ط]: (فقأها).
(٣) في [أ، ب]: (فقده)، وفي [ن]: (فقد كان)، وفي [ط]: (فقأة)، وانظر: تفسير القرطبي ٢/ ١٢٥.
(٤) في [ن]: (يوجها)، وفي [ف]: (يوجهها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14454
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14454، ترقيم محمد عوامة 14105)