مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
في الوضوء من الكلام الخبيث والغيبة باب: بری بات اور غیبت سے وضو ٹوتا ہے یا نہیں؟
حدیث نمبر: 1442
١٤٤٢ - حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن موسى بن أبي الفرات قال: سأل رجلان عطاء (فقالا) (١): (مر) (٢) بنا رجل، فقلنا: المخنث، قال: قلتما له قبل (أن تصليا)؟ (٣) أو بعد ما صليتما؟ فقالا: قبل أن نصلي، فقال: توضئا، وعودا لصلاتكما؛ فإنكما لم (تكن) (٤) لكما صلاة.مولانا محمد اویس سرور
ایک مرتبہ دو آدمیوں نے حضرت عطا سے سوال کیا کہ ہمارے پاس سے ایک آدمی گزرا تو ہم نے اسے مخنث کہا۔ حضرت عطاء نے پوچھا کہ تم نے نماز پڑھنے سے پہلے کہا تھا یا بعد میں کہا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نماز سے پہلے کہا تھا۔ فرمایا تم دونوں وضو کرو اور دوبارہ نماز پڑھو کیونکہ تمہاری نماز نہیں ہوئی۔
حواشی
(١) في [هـ]: (فقال).
(٢) في [جـ]: (ضربنا).
(٣) في [أ، خ، د، هـ]: (صليتما).
(٤) في [خ]: (يكن).