مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من قال: إذا وقف بعرفة قبل أن يطلع الفجر فقد أدرك باب: جو شخص طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا اس نے وقوف عرفہ کو پا لیا
١٤٢٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (بكير) (١) (بن) (٢) عطاء عن عبد الرحمن بن يعمر قال: سمعته يقول سمعت رسول اللَّه ﷺ وهو واقف بعرفة وأتاه أناس من أهل مكة فقالوا: يا رسول اللَّه كيف الحج؟ قال: "الحج عرفة، فمن جاء قبل طلوع الفجر ليلة (جمعٍ) (٣) فقد تم حجه، مِنًى ثلاثةُ أيام، فمن تعجل في يومين فلا إثم عليه، ومن تأخر فلا إثم عليه"، ثم أردف رجلًا خلفه (ينادي بهن) (٤) (٥).حضرت عبد الرحمن بن یعمر سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے سنا جب کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرفہ میں مقیم تھے، اور اھل مکہ میں سے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہو رہے تھے، انھوں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! حج کیسے ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حج وقوف عرفہ کا نام ہے، پس جو شخص طلوع فجر سے قبل جماعت والی رات میں عرفہ آیا اس کا حج مکمل ہوگیا، منیٰ میں تین دن ہیں، پس جس نے دو دنوں سے جلدی کی اس پر کوئی گناہ نہیں، اور جس نے تاخیر کی اس پر بھی کوئی گناہ نہیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو اپنا ردیف بنایا جو ان کلمات کی آواز لگا رہا تھا۔