حدیث نمبر: 14136
١٤١٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يونس بن محمد قال: حدثنا أوس بن (عبيد اللَّه) (١) عن (بريد) (٢) بن أبي مريم (عن أبيه مالك بن ربيعة) (٣) أن النبي ﷺ قال: "اللهم اغفر للمحلقين" ثلاثًا، قالوا: يا رسول اللَّه والمقصرين؟ قال: " (والمقصرين) (٤) " قال (٥): " (كنت) (٦) يومئذ محلوق الرأس فما سرني بحلق رأسي ⦗١٢٤⦘ حمر النعم" أو قال: "خطر عظيم" (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن ربیعہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی، اے اللہ ! حلق کروانے والوں کی مغفرت فرما، صحابہ کرام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قصر کروانے والوں کے لیے بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور قصر کروانے والوں کی بھی مغفرت فرما، راوی فرماتے ہیں کہ اس دن میں محلوق الراس تھا، مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس دعا کی وجہ سے سرخ اونٹوں یا بہت زیادہ اونٹوں کے مل جانے سے زیادہ خوشی محسوس ہوئی۔
حواشی
(١) كذا في [جـ، ز]، وفي [ص]: (عبد اللَّه)، وفي [أ، ب، ن]: (عبيد).
(٢) في [ب، ن]: (يزيد).
(٣) زيادة في: [ص].
(٤) زيادة في: [جـ، ص].
(٥) في [ف]: زيادة (خصيف).
(٦) في [أ، ب، جـ، ز]: (وكنت)، وفي [ص]: (وأنا).