مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
الرجل يجعل عليه (المشي) إلى بيت (الله) فيمشي بعض الطريق ثم يعجز باب: کوئی شخص نذر مانے کہ وہ پیدل بیت اللہ جائے گا، پھر وہ کچھ سفر طے کر کے عاجز آ جائے
حدیث نمبر: 14098
١٤٠٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عبيد اللَّه بن عمرو (عن) (١) مالك بن أنس عن عروة بن أذينة -قال مالك: (جدته) (٢) - وقال (عبيد) (٣) اللَّه: (إن) (٤) (أمه) (٥) جعلت عليها المشي فمشت حتى إذا انتهت إلى السقيا عجزت، [(فسألت) (٦) ابن عمر] (٧) فقال: مروها أن تعود من العام المقبل، فتمشي من حيث عجزت (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید اللہ کی والدہ محترمہ نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی، پھر جب وہ پیدل سفر کر کے مقام سقیاء تک پہنچی تو مزید پیدل سفر سے عاجز آگئیں، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : اس کو کہو کہ وہ آئندہ سال پھر آئے اور جہاں سے وہ پیدل چلنے سے عاجز آئی تھی وہاں سے پیدل چل کر آگے کا سفر کرے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ن]: (ابن)، وسقط من: [جـ، ص، ز].
(٢) في [أ، ب، ن]: (حدثه).
(٣) في [ص]: (عبد).
(٤) سقط من: [جـ، ز].
(٥) في [ص]: (أمته).
(٦) في [جـ، ز، ص]: (فسئل).
(٧) سقط ما بين المعكوفين في [أ، ب، ن].