حدیث نمبر: 14017
١٤٠١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن حجاج قال: رأيت في ثوب عمرو بن شعيب ردعًا من خلوق الكعبة، فقلت له: (ما) (١) هذا في ثوبك وأنت محرم؟ فقال: إن هذا لا يكره هاهنا، إنما (سميت بكة) (٢) لأن الناس (يتباكون) (٣) بها.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمرو بن شعیب کے کپڑوں کو کعبہ کی خوشبو میں لت پت دیکھا، میں نے ان سے عرض کیا : یہ آپ کے کپڑوں میں لگا ہوا ہے حالانکہ آپ حالت احرام میں ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ چیزیں یہاں پر ناپسندیدہ اور مکروہ نہیں ہیں بیشک اس کا نام (مکہ) بکہ رکھا گیا تھا کیونکہ یہاں پر لوگ ایک دوسرے کو دھکا دیتے ہیں اور دھکم پیل ہوتی ہے، (جس کی وجہ سے یہ خوشبو وغیرہ کپڑوں کو لگ جاتی ہے) ۔

حواشی
(١) في [جـ، ص]: زيادة (ما).
(٢) في [ص]: (سميت بلد)، وفي [أ، ب، ز، ن]: (سميت بمكة).
(٣) أي: يتدافعوان، وفي [أ، ب، ز، ن]: (يباكون).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14017
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14017، ترقيم محمد عوامة 13690)