حدیث نمبر: 13858
١٣٨٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب عن أبي قلابة أن ابن عباس سمع رجلًا يقول: لبيك عن شبرمة، (فقال) (١): ويحك وما شبرمة؟ فذو رجلًا بينه و (بينه قرابة) (٢)، قال: حججت (٣) قط؟ قال: لا، قال: فاجعل هذه عنك (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سنا ایک شخص شبرمہ کی طرف سے تلبیہ کہہ رہا تھا آپ نے فرمایا : تیرا ناس ہو یہ شبرمہ کون ہے ؟ تو اس شخص نے اپنے اور اس کے درمیان قرابت کو ذکر کیا، آپ نے دریافت فرمایا : تو نے پہلے حج کیا ہوا ہے ؟ اس شخص نے عرض کیا کہ نہیں آپ فرمایا پھر اس حج کو اپنی طرف سے ہی ادا کر۔

حواشی
(١) في [ن]: (قال).
(٢) في [ص]: (بين قرانه).
(٣) في [ز]: زيادة (عن شبرمة فقال: ويحك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13858
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه الشافعي في الأم ٢/ ١٣٢، وفي المسند ١/ ١١٠، والدارقطني ٢/ ٢٦٩، والطحاوي في شرح المشكل ٦/ ٣٨٠، والبيهقي ٤/ ٣٣٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13858، ترقيم محمد عوامة 13541)