مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في قوله تعالى: ﴿فجزاء مثل ما قتل من النعم﴾ باب: اللہ پاک کا ارشاد {فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ} کی تفسیر کے متعلق جو وارد ہوا ہے
حدیث نمبر: 13843
١٣٨٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن الأعمش عن إبراهيم في قوله (تعالى) (٢): ﴿وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ﴾ فإن لم يجد قوم عليه طعام ثم قيل له: صم لكل نصف صاع يومًا.مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَ مَنْ قَتَلَہٗ مِنْکُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْکُمُ بِہٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْکُمْ ھَدْیًا بٰلِغَ الْکَعْبَۃِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اگر وہ نہ پائے تو اس پر کھانے سے قیمت متعین کرے پھر اس کو کہا جائے کہ ہر نصف صاع کے بدلے ایک روزہ رکھو۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ن، ز]: (عمر).
(٢) في [ص]: زيادة (تعالى).