مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من كان يكره إذا طاف بالبيت بعد العصر وبعد الفجر أن يصلي حتى تغيب أو تطلع باب: جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ عصر اور فجر کے بعد اگر طواف کیا جائے تو جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہو جائے دو رکعتیں نہ ادا کی جائیں
حدیث نمبر: 13737
١٣٧٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا) (١) أبو داود الطيالسي عن هشام الدستوائي عن ابن أبي نجيح عن أبيه قال: (صلينا) (٢) الصبح ثم جلسنا ننتظر بالطواف (قال) (٣): فطاف أبو سعيد الخدري، ثم جلس ولم يصل (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو نجیح کے والد فرماتے ہیں کہ ہم نے فجر کی نماز ادا کی اور طواف کے انتظار میں بیٹھ گئے، حضرت ابو سعید الخدری نے طواف کیا پھر آپ بیٹھ گئے اور نماز ادا نہ فرمائی۔
حواشی
(١) في [جـ]: (نا)، وسقط من: [ص].
(٢) في [أ، ن]: (صليت).
(٣) في [ص]: سقط (قال).