مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من كان يكره إذا طاف بالبيت بعد العصر وبعد الفجر أن يصلي حتى تغيب أو تطلع باب: جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ عصر اور فجر کے بعد اگر طواف کیا جائے تو جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہو جائے دو رکعتیں نہ ادا کی جائیں
حدیث نمبر: 13736
١٣٧٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن ابن أبي ليلى عن عطاء قال: طاف عمر بن الخطاب بعد الفجر، ثم ركب حتى إذا أتى ذات طوى نزل، ⦗٢١⦘ فلما طلعت الشمس وارتفعت صلى ركعتين، ثم قال: (ركعتان مكان) (١) ركعتين (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے فجر کے بعد طواف کیا پھر سواری پر سوار ہو کر ذات طوی مقام پر آئے اور وہاں پر اترے پھر جب سورج طلوع ہو کر بلند ہوا تو دو رکعتیں ادا فرمائیں اور فرمایا : یہ دو رکعتیں ان دو رکعتوں کے بدلے ہوگئیں۔
حواشی
(١) في [ص]: (ركعتان كان)، وفي [جـ]: (ركعتان فكان)، وفي [ن]: (ركعتين مكان).
(٢) منقطع ضعيف؛ ابن أبي ليلى سيء الحفظ، وعطاء لم يدرك عمر، وأخرجه مالك ١/ ٣٦٨، وعبد الرزاق (٩٠٠٨)، والطحاوي ٢/ ١٨٧، والحارث (٣٦٩/ بغية)، والبيهقي ٢/ ٤٦٣.