مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في الطواف بالبيت بعد العصر وبعد الصبح من كان يرى أن يصلي باب: فجر اور عصر کے بعد طواف کرنا اور جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ وہ اسی وقت دو رکعت نماز ادا کرے گا
حدیث نمبر: 13730
١٣٧٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن عبد اللَّه بن مسلم عن (١) عبد اللَّه بن عروة بن الزبير أن ثابت بن عبد اللَّه بن الزبير طاف (بالبيت) (٢) سبعًا بعد صلاة الصبح، فجلس ولم يصل، فجاءه (أبوه) (٣) عبد اللَّه بن الزبير فقال: يا بني (إن) (٤) كنت طائفًا (فصل) (٥)، و (إن) (٦) لم تصل فلا تطف (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن عبد اللہ بن عروہ بن الزبیر سے مروی ہے کہ حضرت ثابت بن عبد اللہ بن زبیر نے فجر کے بعد طواف کے سات چکر لگائے اور بیٹھ گئے نماز ادا نہ کی، ان کے والد حضرت عبد اللہ بن زبیر تشریف لائے اور فرمایا : اے بیٹے ! جب طواف کرو تو نماز ادا کرو اور جب تم نماز ادا نہ کرو تو طواف بھی نہ کرو۔
حواشی
(١) في [جـ، ز]: زيادة (عمر بن)، وفي [أ، ب، ز]: (عمرو بن).
(٢) في [جـ، ص]: زيادة (بالبيت)، وفي [أ، ب]: (بالبيت طاف).
(٣) في [جـ، ص، ز]: زيادة (أبوه).
(٤) في [جـ، ز، ص]: (إذا).
(٥) من [ص]: سقط (فصل).
(٦) في [ب، ن]: (إذا).