مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في قوله (تعالى): ﴿(فلا) رفث ولا فسوق﴾ باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ کی تفسیر میں کیا کہا گیا ہے
حدیث نمبر: 13710
١٣٧١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن (عبد الملك) (١) عن عطاء قال: الرفث: (الجماع) (٢) والفسوق: المعاصي، و (الجدال) (٣): أن تجادل صاحبك حتى (تغضبه ويغضبك) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ الرفث سے مراد بیوی سے شرعی ملاقات کرنا، والفسوق سے مراد دوسرے گناہ اور والجدال سے مراد یہ ہے کہ تو اپنے ساتھی سے اتنا بحث مباحثہ کرے کہ جس سے اس کو غصہ آجائے اور وہ تجھے غصہ دلا دے۔
حواشی
(١) في [ص]: (عبد اللَّه الملك).
(٢) سقط من: [ن].
(٣) في [ص]: (الجلال).
(٤) في [ص]: (تفضيه ويعضيك).