مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في قوله (تعالى): ﴿(فلا) رفث ولا فسوق﴾ باب: اللہ تعالیٰ کے ارشاد فَلَا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ کی تفسیر میں کیا کہا گیا ہے
حدیث نمبر: 13701
١٣٧٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن خصيف عن مقسم عن ابن عباس قال: ﴿فَلَا رَفَثَ﴾ (١): الجماع، ﴿وَلَا فُسُوقَ﴾: المعاصي، ﴿وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِ﴾ [البقرة: ١٩٧]: قال: تماري صاحبك حتى (تغضبه) (٢) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہلا رَفَثَ سے مراد جماع ہے اور وَ لَا فُسُوْقَ سے مراد دوسرے گناہ کے کام اور وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ سے مراد یہ ہے کہ تو اپنے ساتھی سے اتنا بحث و مباحثہ کرے کہ اس کو غصہ آجائے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: زيادة (الفسوق)، وفي [ن]: (ولا فسوق).
(٢) في [ب]: (تقضه)، وفي [ص]: (تغضبه).