حدیث نمبر: 13697
١٣٦٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن محمد بن أبي يحيى عن صالح بن (المهدي) (١) أن أباه أخبره قال: حججت مع عثمان، فقدمنا (مكة) (٢)، ففرشت له في بيت، فرقد، فجاءت حمامة، فوقعت (في) (٣) كوة على فراشه، فجعلت تبحث (برجليها) (٤)، فخشيت أن تنثر على فراشه، فيستيقظ (فأطرتها) (٥)، فوقعت في كوة أخرى، فخرجت حية، (فقتلتها) (٦) فلما استيقظ عثمان أخبرته، فقال: أد عنك شاة فقال: إنما (أطرتها) (٧) من أجلك، قال: وعني شاة (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت صالح کے والد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان کے ساتھ حج کیا میں نے ان کے لیے ایک گھر میں بستر بچھایا تو وہ لیٹ گئے، اتنے میں ایک کبوتر آیا اور بستر کے اوپر روشندان میں آ بیٹھا اور اس نے اپنے پاؤں سے کھودنا شروع کردیا مجھے ڈر ہوا کہ یہ مٹی وغیرہ بستر پر گرائے گا جس کی وجہ سے حضرت عثمان جاگ جائیں گے، میں نے اس کبوتر کو اڑا دیا تو وہ دوسرے روشندان میں جا بیٹھا، ایک سانپ نکلا اور اس کو مار ڈالا، پھر جب حضرت عثمان نیند سے بیدار ہوئے تو میں نے یہ بات بتائی، آپ نے فرمایا اپنی طرف سے بکری ادا کرو، میں نے عرض کیا کہ میں نے تو آپ کی وجہ سے اس کو بھگایا تھا، آپ نے فرمایا پھر میری طرف سے بھی بکری ادا کرو۔

حواشی
(١) كذا في النسخ بالدال، وكذلك في تلخيص الحبير ٢/ ٢٨٦، والبدر المنير ٦/ ٤٠٣ نقلًا عن المصنف، بينما ورد: (المهري) بالراء في التاريخ الكبير ٦/ ٥٣٤، والجرح والتعديل ٤/ ٤١٩ و ٧/ ٢٨٢ و ٨/ ٤٢٣.
(٢) في [ن]: (بمكة).
(٣) في [ز]: (على).
(٤) في [جـ، ز، ص]: (برجلها).
(٥) في [أ، ب]: (فأطهرتها).
(٦) في [ص، جـ]: (فقتلها).
(٧) في [أ، ب]: (فأطهرتها).
(٨) مجهول؛ لجهالة صالح المهدي (أو المهري) وأبيه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13697
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13697، ترقيم محمد عوامة 13387)