حدیث نمبر: 13659
١٣٦٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا وهب بن إسماعيل الأسدي عن سعيد بن عبيد الطائي عن الشعبي قال: (جاءه بعض جيرانه) (١)، فقال: إني قد تهيأت للخروج ولي جيران محتاجون متعففون، فما ترى (لي أجعل) (٢) (كرائي) (٣) وجهازي فيهم (أو) (٤) أمضي لوجهي للحج؛ فقال: واللَّه إن الصدقة (لعظيم) (٥) ⦗٥٤٤⦘ أجرها، وما (يعدل) (٦) عندي موقف من (تلك) (٧) المواقف (شيئًا) (٨) من الأشياء.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شعبی کے پاس کچھ پڑوسی آئے اور عرض کیا کہ ہم حج کے لیے جانا چاہتے ہیں لیکن ہمارے کچھ پاک دامن پڑوسی ہیں جو محتاج ہیں، آپ کی کیا رائے ہے ؟ ہم اپنا سامان وغیرہ ان کو دے دیں یا حج کے لیے چلے جائیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم صدقہ کا اجر بہت زیادہ ہے اور میرے نزدیک ان موقعوں اور جگہوں پر مال خرچ کرنے کے برابر کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ن]: (جاء أمضى حرانة).
(٢) في [أ، ن]: (إلي جعل).
(٣) في [ن]: (كراي).
(٤) في [أ، ب]: (و).
(٥) في [جـ، ص، ز]: (لعظم)، وفي [أ، ن]: (لعظيم)، وفي [ص]: (لعظم).
(٦) في [أ، ص، ن]: (تعدل).
(٧) زيادة من: [جـ، ز، ص].
(٨) في [جـ، ص، ز]: (شيئًا)، وفي [أ، ب، ن]: (شيء).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13659
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13659، ترقيم محمد عوامة 13349)