مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في الطواف على الراحلة من رخص فيه باب: جن حضرات نے سواری پر سوار ہو کر طواف کرنے کی اجازت دی ہے
حدیث نمبر: 13613
١٣٦١٣ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو خالد عن حجاج عن عطاء أن النبي ﷺ (طاف) (١) طاف بالبيت على راحلته، يستلم الحجر بمحجنه وبين الصفا والمروة، فقلت لعطاء: ما أراد إلى ذلك، قال: التوسعة على أمته (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف فرمایا اور خم دار چھڑی سے حجر اسود کا استلام فرمایا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی فرمائی، حضرت حجاج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ ایسا کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا امت پر وسعت کی غرض سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا فرمایا۔
حواشی
(١) سقطت (طاف) من: [ف]، وفي [ب]: (يطوف).