مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في القراد والقملة تدب على المحرم باب: چچڑی (کیڑا) یا جوں محرم پر رینگنے لگے
حدیث نمبر: 13604
١٣٦٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا أبو الأحوص عن (العلاء) (١) بن المسيب قال: قال رجل لعطاء: أطرح القملة تدب علي؟ قال: نعم، (قال) (٢): (فأتقمل؟) (٣) ⦗٥٣٠⦘ قال: يكره أن (تقمل) (٤) ثيابك وأنت محرم، قال: قلت: القراد والقملة تدبّ عليّ، قال: انبذ عنك ما ليس منك.مولانا محمد اویس سرور
ایک شخص نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ جوں میرے اوپر رینگے تو اس کو پھینک دوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اس شخص نے عرض کیا : میں جو ؤں کو ڈھونڈ کر مار دوں ؟ آپ نے فرمایا کہ حالت احرام میں کپڑوں سے جو ؤں کو ڈھونڈ کر مارنے کو ناپسند کیا گیا ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ چچڑی اور جوں اگر میرے اوپر رینگے تو کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا اس کو پھینک کر دور کر دے تجھ پر کوئی جرمانہ نہیں ہے۔
حواشی
(١) في [ب، ن]: (الولاء).
(٢) في [ز]: (قالت).
(٣) في [أ، ن]: (فالقمل).
(٤) في [ص]: (تقتل)، وفي [ن]: (تعمل).