مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في الثوب المصبوغ بالورس والزعفران (في قال: لا بأس أن يغسله ويحرم فيه) باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ ورس (ایک پودا جس سے رنگا جاتا ہے) اور زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے کو دھو کر اس میں احرام باندھنے میں کوئی حرج نہیں
حدیث نمبر: 13591
١٣٥٩١ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا هشيم عن أبي بشر قال: كنت عند سعيد بن المسيب، فقال له رجل: إني أريد أن أحرم ومعي ثوب مصبوغ بالزعفران، ⦗٥٢٧⦘ فغسلته حتى ذهب لون الزعفران، فقال سعيد: معك ثوب غيره؟ قال: لا، (قال) (١): فأحرم فيه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بشر کہتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن المسیب کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص نے آپ سے دریافت کیا : میں احرام باندھنا چاہتا ہوں اور میرے پاس زعفران سے رنگا ہوا کپڑا ہے میں نے اس کو اتنا دھویا ہے کہ اس کا رنگ ختم ہوگیا ہے ؟ حضرت سعید نے دریافت کیا کہ تیرے پاس اس کے علاوہ بھی کوئی کپڑا ہے ؟ اس شخص نے عرض کیا کہ نہیں، آپ نے فرمایا پھر اسی کپڑے میں احرام باندھ لے۔
حواشی
(١) سقط من: [ن].