حدیث نمبر: 1356
١٣٥٦ - حدثنا ابن نمير وأبو أسامة عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن سليمان بن يسار عن أم سلمة قالت: سألت امرأة النبي ﷺ فقالت: إني أُستحاض، فلا أطهر، أفأدع الصلاة؟ قال: "لا، ولكن دعي قدر الأيام والليالي التي كنت تحيضين، وقدرهن، ثم اغتسلي (واستثفري) (١) وصلي"، إلا أن ابن نمير قال: أم سلمة استفتت النبي ﷺ فقالت: امرأة تهراق الدم؟ فقال: "تنتظر قدر الأيام والليالي التي كانت (تحيضهن) (٢)، أو قدرهن من الشهر"، ثم ذكر مثل حديث أبي أسامة (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ ایک عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں ایک مستحاضہ عورت ہوں اور پاک نہیں ہوتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ حیض کے دن اور راتوں میں نماز چھوڑے رکھو پھر غسل کرو، خون روکنے کے لیے کپڑا باندھو اور نماز پڑھو۔ اس حدیث میں ابن نمیر کی روایت مختلف ہے۔
حواشی
(١) في حاشية [جـ]: (هو أن تسد فرجها بخرقة عريضة بعد أن تحشى قطنًا وتمسك طرفها بشيء تشده على وسطها يمنع سيل الدم، من الثفر الذي هو الإزار).
(٢) في [أ، خ، ك]: (تحيض).