حدیث نمبر: 1355
١٣٥٥ - حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن عروة عن عائشة قالت: جاءت فاطمة ابنة أبي حبيش إلي النبي ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه إني امرأة استحاض، فلا أطهر، أفادع الصلاة؟ قال: " (لا) (١)، إنما ذلك عرق، وليست بالحيضة. اجتنبي الصلاة أيام حيضك، ثم اغتسلي، وتوضئي لكل صلاة، ⦗٢٦٩⦘ ثم صلي، وإن قطر الدم على الحصير" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں ایک مستحاضہ عورت ہوں اور میں پاک نہیں ہوتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک رگ کا خون ہے یہ حیض نہیں حیض کے دنوں میں نماز چھوڑ دو ، پھر غسل کرو اور ہر نماز کے لیے وضو کرو پھر نماز پڑھتی رہو خواہ خون چٹائی پر ٹپکتا رہے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، خ].