مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
(في) الرجل إذا أهل بعمرة فأحصر باب: کوئی شخص عمرہ کا احرام باندھے اور وہ پھر محصور ہو جائے
حدیث نمبر: 13544
١٣٥٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي العلاء بن الشخير، قال: خرجت (معتمرًا) (١) (فلما) (٢) كنت ببعض الطريق (صرعت) (٣) عن راحلتي، فانكسرت رجلي، فأرسلت إلى ابن عباس وابن عمر من (يسألهما) (٤) فقالا: إن العمرة ليس لها وقت كوقت الحج، لا تحل حتى (تطوف) (٥) بالبيت، ⦗٥١٦⦘ فأقمت (بالدثينة) (٦) خمسة أشهر أو ثمانية أشهر (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العلاء بن الشخیر فرماتے ہیں کہ میں عمرہ کے ارادے سے نکلا، میں ابھی راستہ میں ہی تھا کہ میں سواری سے گرپڑا اور میری ٹانگ ٹوٹ گئی، میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص کو بھیجا جو ان سے دریافت کرے، ان دونوں حضرات نے فرمایا : عمرہ کے لیے حج کی طرح کوئی وقت مقرر نہیں ہے، اس لیے وہ جب تک طواف نہ کرلے احرام نہ کھولے گا، راوی کہتے ہیں کہ میں پانچ یا آٹھ ماہ مقام دثنیہ میں ہی رکا رہا۔
حواشی
(١) في [ص]: (معتمر).
(٢) في [ص]: (فإذا).
(٣) سقط من: [ن].
(٤) في [جـ، ص، ز]: (يسلهما).
(٥) في [أ، ب، ص]: (يطوف).
(٦) في [أ، ن]: (بالرثينة).