مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في الرجل يهل بالحج فيحصر ما عليه باب: کوئی شخص حج کا احرام باندھے پھر وہ روک لیا جائے تو اس پر کیا ہے؟
حدیث نمبر: 13540
١٣٥٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي عدي عن ابن عون قال: كان محمد يقول: إذا (فرض) (١) الرجل الحج (فأصابه) (٢) حصر، فإنه يبعث بهديه، فإذا بلغ الهدي محله (حل) (٣) من أشياء وحرم (من أخرى) (٤)، فإذا كان عام قابل (هل) (٥) بالحج والعمرة، فإن جمع بينهما فعليه الهدي، وإن شاء أقام حتى يبرأ، فيمضي من وجهه، فيطوف بالبيت، (فتكفي) (٦) (عنه) (٧) العمرة وعليه الحج من قابل.مولانا محمد اویس سرور
محمد فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنے اوپر حج لازم کرلے پھر وہ محصور ہوجائے تو ھدی کا جانور بھیجے گا، پھر جب قربانی کا جانور اپنے مقام تک پہنچ جائے تو وہ کچھ اشیاء سے حلال ہوجائے گا، اور کچھ سے محرم رہے گا، پھر جب آئندہ سال آئے تو وہ حج وعمرہ دونوں کا احرام باندھے گا، اور اگر دونوں کو جمع کرے تو اس پر قربانی بھی ہے، اور اگر وہ چاہے تو جب محصور ہو تو کچھ انتظار کرے پھر جب محصور ہونا ختم ہوجائے تو بیت اللہ جا کر عمرہ کرے اور آئندہ سال صرف عمرہ کرے۔
حواشی
(١) في [أ، ب]: (أفرض)، وفي [جـ، ز]: (افترض)، وفي [ص]: (فتر).
(٢) في [ص]: (فاصبابه).
(٣) في [أ، ن]: (أحل).
(٤) في [ص]: (من آخر)، وفي [جـ]: (آخرا).
(٥) في [جـ، ص]: (حل)، وفي [ز]: (حله).
(٦) في [جـ، ص]: (فيلقى)، وفي [ن]: (فتغلي).
(٧) في [جـ، ص]: (عند).