حدیث نمبر: 1354
١٣٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: جاءت فاطمة ابنة أبي حبيش إلي النبي ﷺ فقالت يا رسول اللَّه إني امرأة استحاض، فلا أطهر، أفأدع الصلاة؟ قال: "لا، إنما ذلك عرق، وليس بالحيضة، فإذا أقبلت الحيضة فدعي الصلاة، فإذا أدبرت؛ (فاغسلي) (١) عنك الدم، وصلي" (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں ایک مستحاضہ عورت ہوں اور میں پاک نہیں ہوتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک رگ کا خون ہے یہ حیض نہیں جب تمہیں حیض آئے تو نماز چھوڑ دو اور جب حیض چلا جائے تو خون دھو کر نماز پڑھو۔
حواشی
(١) في [أ، خ]: (فدعي).