حدیث نمبر: 13334
١٣٣٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن كثير بن (جمهان) (١) قال: أتى (رجل) (٢) (ابن عمر) (٣) (فقال) (٤): يا أبا عبد الرحمن (أتنهى) (٥) الناس عن المصبوغ وتلبسه؟ قال: ويحك إنما (هو بالمدر) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت کثیر بن جمھان کہتے ہیں کہ ایک شخص حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور عرض کیا : اے ابو عبد الرحمن کیا آپ نے لوگوں کو رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع فرمایا ہے حالانکہ آپ خود وہ پہنتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تیرا ناس ہو وہ تو لال مٹی ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ز]: (جهمان)، وفي [ص]: (طهمان).
(٢) في [أ، ب]: (رجلًا).
(٣) في [ز]: (عن ابن عمر).
(٤) في [ز]: (وقال).
(٥) في [ن]: (انتهى)، وفي [جـ، ز]: (انهى)، وفي [ص]: (اتمنى).
(٦) في [أ، ن]: (يومًا لمدر).
(٧) مجهول؛ لجهالة كثير.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13334
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13334، ترقيم محمد عوامة 13041)