مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في العمرة من قال: في كل شهر ومن قال: متى (ما) (شئت) باب: بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ہر مہینے میں عمرہ ہے اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جب چاہے عمرہ کر سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 13154
١٣١٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: ثنا علي بن مسهر عن قتادة (١) عن (معاذة) (٢) عن عائشة قالت: حلت العمرة الدهر إلا ثلاثة أيام، يوم النحر، ويومين من أيام التشريق (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں تین دنوں کے علاوہ ساری زندگی عمرہ کرنا درست ہے، یوم النحر اور دو دن ایام التشریق کے ان میں عمرہ نہیں کرسکتا۔
حواشی
(١) في [أ، ن]: زيادة (عن عبادة).
(٢) في [أ، ط، ن]: (معاوية).