حدیث نمبر: 1313
١٣١٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زيد بن وهب عن عبد الرحمن بن حسنة قال: خرج علينا النبي ﷺ وفي يده كهيئة الدرقة قال: فوضعها، ثم جلس، فبال إليها. فقال بعضهم: انظروا إليه، يبول كما تبول المرأة! فسمعه النبي ﷺ فقال: "ويحك (أما) (١) علمت ما أصاب صاحب بني اسرائيل؟ كانوا إذا أصابهم البول، قرضوه بالمقاريض، فنهاهم، فعذب في قبره" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبدالرحمن بن حسنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ کے ہاتھ میں چمڑے کی ڈھال جیسی کوئی چیز تھی۔ آپ نے اس کی طرف پیشاب کیا۔ ایک آدمی کہنے لگا ان کو دیکھو ! یہ تو عورتوں کی طرح پیشاب کرتے ہیں ! آپ نے اس کی یہ بات سنی تو فرمایا ” تیرا ناس ہو کیا تو نے بنی اسرائیل کے اس آدمی کے بارے میں نہیں سنا کہ جب لوگ پیشاب لگنے کی وجہ سے کپڑے کا وہ حصہ قینچی سے کاٹ دیتے تھے تو اس نے انہیں اس سے منع کیا جس کے بدلے میں اللہ نے اسے عذاب قبر میں مبتلا کردیا تھا۔

حواشی
(١) في [أ، جـ، خ، د، ك، هـ]: (ما).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1313
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (١٧٧٥٨) والنسائي ١/ ٢٦ وابن ماجه (٣٤٦) وأبو داود (٢٢) والحاكم ١/ ١٨٤، وابن حبان (٣١٢٧)، وسيأتي ٣/ ٣٧٥ برقم [١٢٤١٢].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1313، ترقيم محمد عوامة 1312)