حدیث نمبر: 13018
١٣٠١٨ - حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن كريب عن كريب عن ابن عباس ﵄ (١) عن سنان (بن) (٢) عبد اللَّه الجهني أنه حدثته عمته أنها أتت النبي ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه، (إنها) (٣) توفيت أمي وعليها (مشي) (٤) إلى الكعبة نذر؟، فقال: "هل تستطيعين أن تمشي عنها؟ " فقالت: نعم، قال: "فامشي عن أمك"، فقالت: أيجزئ ذلك عنها؟ فقال: " (نعم) (٥)، أرأيت لو كان عليها دين فقضيته هل كان يقبل منك؟ " قالت: نعم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "اللَّه أحق بذلك" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سنان بن عبد اللہ الجھنی اپنی چچی سے روایت کرتے ہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ٖ ! میری والدہ فوت ہوگئیں ہیں ان کے ذمہ کعبہ پیدل جانے کی نذر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : کیا تم طاقت رکھتی ہو کہ ان کی جگہ چل کر جاؤ ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر اپنی والدہ کی طرف سے چل کر جاؤ، میں نے عرض کیا کیا یہ ان کی طرف سے کفایت کر جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تیرا کیا خیال ہے کہ اگر ان پر قرض ہوتا جو تو ادا کرتی تو کیا وہ قرضہ تجھ سے قبول (وصول) کیا جاتا ؟ میں نے کہا جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کے زیادہ حقدار ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، جـ، ص، ز]، وفي [ن]: (عنه).
(٢) سقط من: [ن].
(٣) سقط من: [جـ، ز].
(٤) في [ز]: (المشي).
(٥) سقط من: [س، ن].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 13018
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال عبد اللَّه بن عطاء، أخرجه ابن عدي ٣/ ٤٤٠، والبيهقي ١٠/ ٧٨، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٢٩٥)، وأبو يعلى كما في المطالب ٨/ ٥٨٧ (١٧٨٦)، والبخاري في التاريخ ٤/ ١٦١، وابن الأثير في أسد الغابة ٧/ ٤٧١، وأبو نعيم في معرفة الصحابة ٣/ ١٤٢٨ (٣٦١٧)؛ وانظر: ما تقدم برقم: [١٢٨١١].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13018، ترقيم محمد عوامة 12743)