مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
الرجل يحلف أن لا يكلم الرجل حينا كم يكون ذلك باب: کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ کسی شخص سے ایک وقت تک بات نہیں کروں گا تو اس سے کتنا وقت مراد ہے؟
حدیث نمبر: 12875
١٢٨٧٥ - حدثنا أبو الأحوص عن عطاء بن السائب (عن رجل منهم قال: سألت ابن عباس) (١) قلت: إني حلفت (لا) (٢) أكلم رجلًا حينًا قال: فقرأ ابن عباس: ﴿تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا﴾ [إبراهيم: ٢٥]، قال: الحين السنة (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن السائب ان میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ میں نے قسم اٹھائی ہے کہ میں ایک شخص سے ایک وقت (زمانے) تک بات نہیں کروں گا ؟ آپ نے قرآن پاک کی آیت تلاوت کی { تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّھَا } فرمایا : لفظ حین سے مراد ایک سال ہے۔
حواشی
(١) سقط من: [ص].
(٢) في [جـ، ص، ز]: (ألا).
(٣) مجهول.