مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
يجامع في اعتكافه ما عليه في ذلك؟ باب: حالت اعتکاف میں کوئی شخص بیوی سے شرعی ملاقات کر لے تو اس پر کیا ہے؟
١٢٨٥١ - حدثنا عبد العزيز بن محمد الدراوردي عن موسى بن (أبي معبد) (١) أنه كان على امرأة من أهله (اعتكاف) (٢) شهرًا في المسجد، (فاعتكفت) (٣) تسعة وعشرين يومًا، ثم حاضت فرجعت إلى أهلها ثم طهرت فوقع عليها زوجها قال: ⦗٣٤٢⦘ (وجئت) (٤) سالمًا والقاسم فقالا (لي) (٥): اذهب إلى سعيد بن المسيب ثم ائتنا، قال: فذهبت إلى سعيد فسألته، فقال: (جاءا) (٦) حدًا من حدود اللَّه، (وأخطأ) (٧) السنة، وعليها أن تستأنف.حضرت موسیٰ بن معبد فرماتے ہیں کہ ان کے اھل میں سے ایک عورت مہینے کے لیے مسجد میں اعتکاف بیٹھی، وہ انتیس دن بیٹھی تھی کہ اس کو حیض آگیا تو وہ اپنے گھر واپس آگئی پھر وہ پاک ہوئی تو اس کے شوہر نے اس سے شرعی ملاقات کرلی، حضرت موسیٰ کہتے ہیں کہ میں حضرت سالم اور حضرت قاسم کے پاس آیا، آپ دونوں نے مجھ سے فرمایا : پہلے حضرت سعید بن المسیب کے پاس جا پھر ہمارے پاس آنا، میں حضرت سعید بن المسیب کے پاس آیا اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، آپ نے فرمایا : دونوں نے حدود اللہ میں خیانت کی ہے اور سنت کے خلاف کیا ہے، عورت پر لازم ہے کہ وہ پھر دوبارہ اعتکاف بیٹھے (شروع سے) حضرت موسیٰ فرماتے ہیں کہ میں پھر حضرت سالم اور حضرت قاسم کے پاس گیا آپ کو بتایا جو انہوں نے کہا تھا، دونوں حضرات نے فرمایا یہی ہماری بھی رائے ہے۔