مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
الرجل (أو) المرأة يكون عليه أن ينحر بقرة، له أن يبيع جلدها باب: کوئی مرد یا عورت گائے قربان کرنے کی نذر مانے تو اس کی کھال کو فروخت کر سکتے ہیں؟
حدیث نمبر: 12848
١٢٨٤٨ - حدثنا مروان بن معاوية عن مروان بن ماهان (التيمي) (١) قال: سمعت الشعبي وسئل عن امرأة نذرت أن تنحر بقرة، ألها أن تبيع جلدها؟ فقال: نعم فقال ابن (أشوع) (٢): لكني لست (أرى) (٣) ذلك، فقال الشعبي: لو قلت: ⦗٣٤١⦘ لحمها لم يكن به بأس، إنما نذرت دمها فقد (أهرقت) (٤) دمها.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مروان بن ماھان التیمی فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت نے گائے ذبح کرنے کی نذر مانی ہے کیا اس کے لیے اس کی کھال فروخت کرنا جائز ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، حضرت ابن اشوع نے فرمایا : لیکن میں اس کو درست خیال نہیں کرتا، حضرت شعبی نے فرمایا : اگر تو کہے اس کا گوشت (فروخت کرنا) تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ اس نے خون کی نذر مانی تھی جو وہ بہا چکی ہے۔
حواشی
(١) في [جـ، ص]: سقط (التميمي).
(٢) في [أ]: (شبوع).
(٣) في [أن]: (أدري).
(٤) في [جـ، ز]: (أهراقت).