مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
في رجل نذر وهو مشرك ثم أسلم، ما قالوا فيه؟ باب: کوئی مشرک نذر مانے اور پھر مسلمان ہو جائے تو اس کے متعلق کیا کہا گیا ہے؟
حدیث نمبر: 12830
١٢٨٣٠ - حدثنا وكيع عن الهذلي أن امرأة نذرت أن تسرج في بيعة وهي نصرانية، فأسلمت فأرادت أن توفي (بنذرها) (١)، قال الحسن وقتادة: تسرج في مساجد المسلمين.مولانا محمد اویس سرور
حضرت الھذلی فرماتے ہیں کہ ایک عورت جو نصرانیہ تھی اس نے نذر مانی کہ وہ کنیسہ میں چراغ جلائے گی پھر وہ مسلمان ہوگئی پھر اس نے اپنی نذر پوری کرنے کا ارادہ کیا، حسن اور حضرت قتادہ نے فرمایا کہ تو مسلمانوں کی مسجدوں میں چراغ جلا لے، اور حضرت ابن سیرین نے فرمایا اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے، حضرت الھذلی فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے اقوال حضرت شعبی کے سامنے بیان کیئے تو آپ نے فرمایا : اونچا سننے والے (ابن سیرین) نے صحیح کہا ہے اور تیرے ساتھیوں سے غلطی ہوئی ہے، اسلام پچھلی چیزوں کو منہدم کردیتا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ن، ز]: (عن نذرها).