مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
الرجل يقول: علي المشي إلى البيت، ولا يقول: علي نذر مشي إلى بيت الله (أو) إلى الكعبة، هل يلزمه ذلك؟ باب: کوئی شخص یوں کہے کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف چلنا ہے اور یوں نہ کہے کہ مجھ پر نذر ہے بیت اللہ کی طرف یا کعبہ کی طرف پیدل چلنا، تو کیا اس پر کچھ لازم ہو گا؟
حدیث نمبر: 12826
١٢٨٢٦ - حدثنا عمر (بن أيوب) (١) عن عمر بن زيد قال: جاء (رجلان) (٢) إلى القاسم (فسألاه) (٣) وأنا أسمع (عن) (٤) رجل جعل عليه المشي إلى بيت اللَّه قال: فقال القاسم: أنذر؟ (قال) (٥): لا، قال: فليكفر يمينه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن زید فرماتے ہیں کہ دو شخص حضرت قاسم کے پاس آئے اور سوال کیا میں اس وقت سن رہا تھا کہ ایک شخص نے کہا کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف پیدل چلنا ہے آپ نے دریافت فرمایا کیا اس نے نذر مانی تھی ؟ انہوں نے کہا نہیں، آپ نے فرمایا : پھر اس کو چاہئے کہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے۔
حواشی
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [ز، ص]: (رجل).
(٣) في [ز]: (فسأله).
(٤) في [ب، ص، ز، ف]: (عن)، وفي [ن]: (من).
(٥) في [ب]: (قالا).