مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
الرجل يقول: علي المشي إلى البيت، ولا يقول: علي نذر مشي إلى بيت الله (أو) إلى الكعبة، هل يلزمه ذلك؟ باب: کوئی شخص یوں کہے کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف چلنا ہے اور یوں نہ کہے کہ مجھ پر نذر ہے بیت اللہ کی طرف یا کعبہ کی طرف پیدل چلنا، تو کیا اس پر کچھ لازم ہو گا؟
حدیث نمبر: 12825
١٢٨٢٥ - حدثنا معتمر (١) عن ليث عن أبي معشر عن يزيد (عن) (٢) إبراهيم التيمي قال: إذا قال الرجل: للَّه عليّ أو عليه حجة فسواء، وإذا قال: (للَّه) (٣) (عليَّ) (٤) نذر (أو) (٥) عليَّ (للَّه) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید ابی ابراہیم التیمی فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص یوں کہے اللہ کے لیے مجھ پر ہے یا مجھ پر حج کرنا ہے تو یہ دونوں برابر ہیں، اور جب یوں کہے مجھ پر نذر ہے یا اللہ کے لیے مجھ پر ہے تو یہ دونوں برابر ہیں۔
حواشی
(١) في [ص]: زيادة (بن سليمان).
(٢) في [أ، ن، ص، ز]: (بن)، وانظر: الاستذكار ٥/ ١٧٢، وانظر ما سبق [١٢٧٢٩].
(٣) في [ز، ص]: (اللَّه).
(٤) سقط من: [ص].
(٥) في [أ، ب، ز]: (و)
(٦) سقط من: [ب، ص، ف].