مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
الرجل يقول: علي المشي إلى البيت، ولا يقول: علي نذر مشي إلى بيت الله (أو) إلى الكعبة، هل يلزمه ذلك؟ باب: کوئی شخص یوں کہے کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف چلنا ہے اور یوں نہ کہے کہ مجھ پر نذر ہے بیت اللہ کی طرف یا کعبہ کی طرف پیدل چلنا، تو کیا اس پر کچھ لازم ہو گا؟
حدیث نمبر: 12824
١٢٨٢٤ - [حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن هشام بن عروة قال: جعل رجل منا عليه المشي إلى البيت (١) فأتى القاسم فسأله عن ذلك فقال: يمشي إلى البيت] (٢).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ہم میں سے ایک شخص نے کہا مجھ پر کسی چیز میں بیت اللہ کی طرف چلنا ہے، پھر وہ حضرت قاسم کے پاس آیا اور آپ سے دریافت کیا، آپ نے فرمایا : وہ بیت اللہ کی طرف پیدل جائے۔
حواشی
(١) في [ز]: زيادة (في شيء).
(٢) سقط الخبر من [ص]، وانظر: الاستذكار ٥/ ١٧٢، وأخبار مكة للفاكهي ١/ ٣٥٠ (٧٢٢).