مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
الرجل يقول: علي المشي إلى البيت، ولا يقول: علي نذر مشي إلى بيت الله (أو) إلى الكعبة، هل يلزمه ذلك؟ باب: کوئی شخص یوں کہے کہ مجھ پر بیت اللہ کی طرف چلنا ہے اور یوں نہ کہے کہ مجھ پر نذر ہے بیت اللہ کی طرف یا کعبہ کی طرف پیدل چلنا، تو کیا اس پر کچھ لازم ہو گا؟
حدیث نمبر: 12823
١٢٨٢٣ - حدثنا حماد بن خالد الخياط عن محمد بن هلال سمع سعيد بن المسيب يقول: من قال: عليّ المشي إلى بيت اللَّه، فليس بشيء، إلا (١) أن يقول: عليّ نذر مشي إلى الكعبة.مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ھلال فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ جو شخص یوں کہے مجھ پر بیت اللہ کی طرف پیدل چلنا ہے تو یہ کچھ بھی نہیں ہے جب تک وہ یوں نہ کہے مجھ پر نذر ہے کہ میں کعبہ کی طرف پیدل چلوں۔
حواشی
(١) في [ز]: زيادة (على)، قبل (أن يقول).