حدیث نمبر: 12750
١٢٧٥٠ - حدثنا أبو (عامر) (١) العقدي عن محمد بن قيس قال: قلت لسعيد بن المسيب: أنا أمشي بردائي هذا حتى (أسير) (٢) به إلى الكعبة (إن كلمت) (٣) صاحبًا لي، فقال: (فندمت)؟ (٤) قلت: نعم، (قال) (٥): اذهب فالبس ثوبك، فما أغنى الكعبة عن ثوبك وعنك، (وقل: سعيد) (٦) أمرني. فأتيت القاسم بن محمد، فقال لي: مثل ما قال سعيد، فلما خرجت من عنده أدركني رسوله، فقال: عندك درهم؟ قلت: نعم، قال: تصدق به، (وقل) (٧): أمرني به القاسم.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن قیس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن المسیب سے عرض کیا کہ میں نے قسم کھائی ہے کہ اگر میں نے اپنے اس ساتھی سے بات کی تو میں اپنی اس چادر کے ساتھ چل کر مکہ مکرمہ جاؤں گا۔ آپ نے فرمایا تو اس سے نادم ہوا ؟ میں نے عرض کیا ہاں، آپ نے فرمایا جا اور اپنے کپڑے کو پہن لے کعبہ تیرے اور تیرے کپڑے سے غنی (بےنیاز) کردیا گیا ہے، اور کہہ دے کہ سعید نے مجھے حکم دیا ہے پھر میں حضرت قاسم بن محمد کے پاس آیا اور جو بات حضرت سعید نے کہی تھی وہی انہوں نے بھی کہی، پھر جب میں ان کے پاس سے نکلا تو ان کا قاصد میرے پاس آیا اور پوچھا تیرے پاس درھم ہے ؟ میں نے کہا ہاں، اس نے کہا اس کو صدقہ کر دے اور کہہ دینا کہ مجھے قاسم نے حکم دیا ہے۔

حواشی
(١) في [ص]: (العامر).
(٢) في [أ]: (استر).
(٣) في [أ، ب]: (لأكلمه)، وفي [ز، ص]: (أن كلمته)، وفي [ن]: (لأكلم).
(٤) في [أ، ن]: (فقدمت).
(٥) في [أ، ب، ن]: بدون (قال).
(٦) في [ن]: (وقال)، وفي [أ]: (وقال سعيد).
(٧) في [ن]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12750
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12750، ترقيم محمد عوامة 12491)