حدیث نمبر: 12745
١٢٧٤٥ - حدثنا داود بن كثير (الجزري) (١) عن طارق بن أبي مرة، قال: (حلفت) (٢) لامرأتي في جارية لها إن أنا وطئتها فهي هدية إلى بيت اللَّه، (فوطئتها) (٣) فسألت سعيد بن جبير، فقال: اشتر بثمنها بدنا ثم انحرها.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت طارق بن ابو مرہ فرماتے ہیں کہ میں نے قسم اٹھائی تھی کہ اگر میں نے اپنی بیوی کی باندی کے ساتھ وطی کی تو لونڈی وہ بیت اللہ کے لیے ھدیہ ہے پھر میں نے اس سے وطی کرلی، پھر میں نے حضرت سعید بن جبیر سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا اس کے پیسوں سے اونٹ خرید کر پھر اس کو قربان کردو۔

حواشی
(١) في [ب، ز]: (الجرري)، وفي [ص]: (الجوزي)، وفي [ن]: (الجريري).
(٢) في [ن]: (جعلت).
(٣) في [أ]: (فوطيتها)، وفي [ب]: (فوطتها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الأيمان والنذور والكفارات / حدیث: 12745
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12745، ترقيم محمد عوامة 12486)