مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
الذي يصلي وفي ثوبه خرء الطير باب: پرندے کی بیٹ کپڑوں پر لگ جائے تو ان میں نماز کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 1266
١٢٦٦ - حدثنا وكيع عن حنظلة قال: رأيت سالما (سلح) (١) عليه طير، فمسحه وقال: لا بأس به.مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ فرماتے ہیں ایک پرندے نے حضرت سالم پر بیٹ کردی، انہوں نے اسے صاف کردیا اور فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) في [أ، ك]: (سلخ)، في حاشية [خ]: سلح كنع تغوط وهو خاص بالطير والحبائم ويستعمل في الإنسان تساهلًا على التشبيه.