مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
الذي يصلي وفي ثوبه خرء الطير باب: پرندے کی بیٹ کپڑوں پر لگ جائے تو ان میں نماز کا کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 1264
١٢٦٤ - حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن قال: سقطت (هامة) (١) على الحسن، (فذرقت) (٢) عليه، فقال له بعض القوم: نأتيك بماء تغسله؟ فقال: لا، وجعل يمسحه عنه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث کہتے ہیں کہ ایک الّو نے حسن پر بیٹ کردی۔ ایک آدمی نے کہا کہ ہم آپ کے لیے پانی لے آتے ہیں آپ اسے دھو لیجئے۔ فرمایا اس کی ضرورت نہیں پھر اسے ہاتھ سے صاف کردیا۔
حواشی
(١) في [أ، خ]: (يمامة) وفي [هـ]: (هائمة) وفي حاشية [جـ]: (اسم طير من طيور الحكمة غير واضحة وقيل البوم).
(٢) في [أ، هـ]: (فذرفت).