مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الأيمان والنذور والكفارات
الندر إذا لم يسم له كفارة باب: نذر کا اگر نام نہ لے تو کیا اس پر کفارہ ہے؟
حدیث نمبر: 12563
١٢٥٦٣ - حدثنا وكيع عن عبد اللَّه بن سعيد بن أبي هند عن (بكير) (١) بن عبد اللَّه ابن الأشج عن كريب عن ابن عباس رضي اللَّه (عنهما) (٢) قال: النذور أربعة: من نذر نذرًا لم يسمه فكفارته كفارة يمين، ومن (نذر نذرًا)) (٣) (٤) (في معصية فكفارته كفارة يمين) (٥)، (ومن نذر نذرًا فيما لا يطيق فكفارته كفارة ⦗٢٧٧⦘ يمين) (٦)، ومن نذر نذرًا فيما يطيق فليوف بنذره (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ نذر کی چار قسمیں ہیں کسی شخص نے نذر مانی لیکن اس کو متعین نہ کیا تو اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے، اور کسی نے معصیت کی نذر مانی تو اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے، اور جس نے نذر مانی اس چیز کی جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے، اور جس نے نذر مانی اس چیز کی جس کی وہ طاقت رکھتا ہے تو اس کو چاہئے کہ اپنی نذر پوری کرے۔
حواشی
(١) في [أ، ص]: (بكر).
(٢) في [ن]: (عنه).
(٣) سقط من: [ن].
(٤) سقط من: [أ، ب، ز].
(٥) سقط من: [ص، ز].
(٦) سقط من: [ز].