حدیث نمبر: 12491
١٢٤٩١ - حدثنا محمد بن (بشر) (١) حدثنا (عبيد اللَّه) (٢) بن (عمر عن) (٣) نافع عن (عبد اللَّه أن) (٤) حفصة بكت على عمر فقال (لها) (٥): مهلا يا بنية ألم تعلمي أن النبي ﷺ قال: "إن الميت ليعذب ببكاء أهله عليه" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضرت عمر زخمی ہوئے تو حضرت حفصہ نے رونا شروع کردیا تو حضرت عمر نے فرمایا : اے بیٹی ! رونا چھوڑ دے کیا تو نہیں جانتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بیشک میت کو عذاب دیا جاتا ہے اس کے اھل کے اس پر رونے کی وجہ سے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ص]: (بشير).
(٢) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٣) سقط من: [ف، هـ].
(٤) سقط من: [ص].
(٥) زيادة من [ص].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12491
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه مسلم (٩٢٧)، وأحمد (٢٤٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12491، ترقيم محمد عوامة 12242)