حدیث نمبر: 12451
١٢٤٥١ - حدثنا جعفر بن عون عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة (قالت) (١): جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: إن أمي (افتلتت) (٢) نفسها، وإنها لو تكلمت تصدقت، فهل (لها) (٣) من أجر إن تصدقت عنها؟ قال: "نعم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میری والدہ کا اچانک انتقال ہوگیا اور بیشک وہ اگر گفتگو کرتی تو صدقہ و خیرات کرتی، اگر اب میں ان کی طرف سے صدقہ کروں تو کیا ان کو اجر ملے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہاں۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (قال).
(٢) في [ب، ز]: (افتتلت)، وفي [ص]: (افتلتت)، وفي [أ، هـ]: (اقتتلت).
(٣) في [أ]: (لنا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الجنائز / حدیث: 12451
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٢٧٦٠) ومسلم (١٠٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12451، ترقيم محمد عوامة 12203)